ایزی پیسہ اور انکے ذریعے قرض کی واپسی کا فقہی جائزہ

##article.authors##

  • نیازعلی شاہ Abdul Wali Khan University Author
  • محمد بلال Abdul Wali Khan university Mardan Author

##semicolon##

ایزی پیسہ ، قرض ، قرض دار ، قرض خواہ

##article.abstract##

ترقی کے اس دور راہن میں  آئے دن نِت  نئی چیزیں متعارف ہو رہی ہیں اور انسانی زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جارہی ہے  مثلا ترسیل کا نظام لے لیں تو  قرن ِ سابق میں اسکے لئے   سُفتجہ[i]  استعمال ہوتا تھا  یعنی ایک بندہ اپنے علاقے سے دور تجارت  وغیرہ کے کمائے ہوئے پیسے وہاں  پر کسی شخص کو اس شرط پر دیتا کہ آپ مجھے اپنے   علاقے میں اتنی مقدار میں پیسے دیں گے اب اسکا فائدہ یہ ہوتا کہ اس عمل سے وہ راستے کے خطرات سے محفوظ ہوجاتا  ۔

فقہاء نے  سُفتجہ  کی علت بھی سقوط خطر الطریق بیان کی ہے  اور اسکو مکروہ  لکھا ہے ۔

اسی طرح مختلف اوقات میں ترسیل رقوم کیلئے طرق مختلفہ استعمال ہوتی رہی یہاں تک کہ حال ہی میں بنک کے ذریعے رقوم کے ترسل کا ایک محفوظ طریقہ رائج ہے لیکن اس طریقے کے لئے کم از کم بنک میں اکاونٹ کا ہونا ضروری ہے اور اب اگر اکاونٹ کی شرط بھی ختم ہوئی ہے لیکن بنک جاکر اپنے پیسوں کو ٹرانسفر کرنا اور بنک میں انتظار کرنا یہ ساری مشقتیں اس میں پائی جاتی تھی تو اس سارے جھنجھٹ سے چھٹکارہ پانے کیلئے ایزی پیسہ ، جیز کیش وغیرہ کے نام سے مختلف قسم کے ایپس ہے جسکے ذریعے رقم کی ترسیل انتہائی کم وقت اور آسانی کیساتھ ہوتی ہے ۔ کیونکہ ترقی کے اس دور میں آئے دن نِت نئے طریقے رائج ہوتے جارہے ہیں اور اس جدید آلات سے اگرچہ سہولتیں آرہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا فقہی حکم مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔

 

  

##submission.downloads##

##submissions.published##

2024-11-07

##issue.issue##

##section.section##

Articles

##plugins.generic.recommendBySimilarity.heading##

##common.pagination##

##plugins.generic.recommendBySimilarity.advancedSearchIntro##